اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں
کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں
اس تلون کا کچھ علاج نہیں
آئنہ دیکھتے ہی اترائے
پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں
لے کے دل رکھ لو کام آئے گا
گو ابھی تم کو احتیاج نہیں
ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر
ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں
چپ لگی لعل جاں فزا کو ترے
اس مسیحا کا کچھ علاج نہیں
دل بے مدعا خدا نے دیا
اب کسی شے کی احتیاج نہیں
کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا
درہم داغ کا رواج نہیں
بے نیازی کی شان کہتی ہے
بندگی کی کچھ احتیاج نہیں
دل لگی کیجئے رقیبوں سے
اس طرح کا مرا مزاج نہیں
عشق ہے پادشاہ عالم گیر
گرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں
درد فرقت کی گو دوا ہے وصال
اس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں
یاس نے کیا بجھا دیا دل کو
کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں
ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں
خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں
حور سے پوچھتا ہوں جنت میں
اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں
صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گے
ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

