پیامی کامیاب آئے نہ آئے

Toggle stanza 1
پیامی کامیاب آئے نہ آئے
1

پیامی کامیاب آئے نہ آئے

خدا جانے جواب آئے نہ آئے

2

ترے غمزوں کو اپنے کام سے کام

کسی کے دل کو تاب آئے نہ آئے

3

اسے شرمائیں گے ذکر عدو پر

یہ قسمت ہے حجاب آئے نہ آئے

4

تم آؤ جب سوار توسن ناز

قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے

5

شمار اپنی خطاؤں کا بتا دوں

تمہیں شاید حساب آئے نہ آئے

6

نئے خنجر سے مجھ کو ذبح کیجے

پھر ایسی آب و تاب آئے نہ آئے

7

شب وصل عدو تیری بلا سے

کسی مضطر کو خواب آئے نہ آئے

8

پیوں گا آج ساقی سیر ہو کر

میسر پھر شراب آئے نہ آئے

9

یہ جا کر پوچھ آ تو ان سے درباں

کہ وہ خانہ خراب آئے نہ آئے

10

نہ دیکھو داغؔ کا دیوان دیکھو

سمجھ میں یہ کتاب آئے نہ آئے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…