پیامی کامیاب آئے نہ آئے
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1پیامی کامیاب آئے نہ آئے
11
پیامی کامیاب آئے نہ آئے
خدا جانے جواب آئے نہ آئے
22
ترے غمزوں کو اپنے کام سے کام
کسی کے دل کو تاب آئے نہ آئے
33
اسے شرمائیں گے ذکر عدو پر
یہ قسمت ہے حجاب آئے نہ آئے
44
تم آؤ جب سوار توسن ناز
قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے
55
شمار اپنی خطاؤں کا بتا دوں
تمہیں شاید حساب آئے نہ آئے
66
نئے خنجر سے مجھ کو ذبح کیجے
پھر ایسی آب و تاب آئے نہ آئے
77
شب وصل عدو تیری بلا سے
کسی مضطر کو خواب آئے نہ آئے
88
پیوں گا آج ساقی سیر ہو کر
میسر پھر شراب آئے نہ آئے
99
یہ جا کر پوچھ آ تو ان سے درباں
کہ وہ خانہ خراب آئے نہ آئے
1010
نہ دیکھو داغؔ کا دیوان دیکھو
سمجھ میں یہ کتاب آئے نہ آئے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

