جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے
Toggle stanza 1جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے
11
جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے
تم تلافی جو کرو اس کی ضرورت کیا ہے
22
ایک دن مان ہی جاؤ گے ہمارا کہنا
تم کہے جاؤ یہی تیری حقیقت کیا ہے
33
وعدہ وصل سے انکار ہے تو قتل کرو
تم سے ہم پوچھتے ہیں اس میں قباحت کیا ہے
44
بوسہ مانگا تو کہا اس نے بدل کر چتون
آپ کو یہ بھی خبر ہے مری عادت کیا ہے
55
ہائے کیا تھا وہ زمانہ کہ تم آگاہ نہ تھے
شکر کس چیز کو کہتے ہیں شکایت کیا ہے
66
کیا کہوں کس سے کہوں دل کی حقیقت اے داغؔ
سب یہی پوچھتے ہیں کہئے تو حضرت کیا ہے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

