آپ کا اعتبار کون کرے
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1آپ کا اعتبار کون کرے
11
آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے
22
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے
33
ہو جو اس چشم مست سے بے خود
پھر اسے ہوشیار کون کرے
44
تم تو ہو جان اک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے
55
آفت روزگار جب تم ہو
شکوۂ روزگار کون کرے
66
اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے
77
ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت کا انتظار کون کرے
88
آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاد
دیکھیں دل کا شکار کون کرے
99
وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے
1010
داغؔ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

