تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
11
تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
اس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں
22
جب ہوئی صبح آ گئے ناصح
انہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں
33
وہ مصیبت سنی نہیں جاتی
جس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں
44
دیکھنے آئے ہیں جو میری نبض
ان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں
55
موت مجھ کو دکھائی دیتی ہے
جب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں
66
شب فرقت اٹھا اٹھا کر سر
صبح عشرت کو دیکھتا ہوں میں
77
دور بیٹھا ہوا سر محفل
رنگ صحبت کو دیکھتا ہوں میں
88
ہر مصیبت ہے بے مزا شب غم
آفت آفت کو دیکھتا ہوں میں
99
نہ محبت کو جانتے ہو تم
نہ مروت کو دیکھتا ہوں میں
1010
کوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گا
جیسے قسمت کو دیکھتا ہوں میں
1111
حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیں
ساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

