جائے آسودگی کہاں ہے آج

Toggle stanza 1
جائے آسودگی کہاں ہے آج
1

جائے آسودگی کہاں ہے آج

جو زمیں کل تھی آسماں ہے آج

2

تم وہاں تھے تو دل وہاں تھا کل

تم یہاں ہو تو دل یہاں ہے آج

3

عشق کو ابتدا میں ہم سمجھے

فتنہ آخر الزماں ہے آج

4

کل ادا دل کا حال ہو کہ نہ ہو

سن لو گویا مری زباں ہے آج

5

آرزو وصل کی شہید ہوئی

ماتم مرگ نوجواں ہے آج

6

اس ہدف پر لگائیں گے وہ تیر

دل نشیں داغؔ کا نشاں ہے آج

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…