جائے آسودگی کہاں ہے آج
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1جائے آسودگی کہاں ہے آج
11
جائے آسودگی کہاں ہے آج
جو زمیں کل تھی آسماں ہے آج
22
تم وہاں تھے تو دل وہاں تھا کل
تم یہاں ہو تو دل یہاں ہے آج
33
عشق کو ابتدا میں ہم سمجھے
فتنہ آخر الزماں ہے آج
44
کل ادا دل کا حال ہو کہ نہ ہو
سن لو گویا مری زباں ہے آج
55
آرزو وصل کی شہید ہوئی
ماتم مرگ نوجواں ہے آج
66
اس ہدف پر لگائیں گے وہ تیر
دل نشیں داغؔ کا نشاں ہے آج
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

