آرزو ہے وفا کرے کوئی
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1آرزو ہے وفا کرے کوئی
11
آرزو ہے وفا کرے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
22
گر مرض ہو دوا کرے کوئی
مرنے والے کا کیا کرے کوئی
33
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا
اپنے حق میں دعا کرے کوئی
44
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں
میرا مطلب ادا کرے کوئی
55
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے
مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی
66
اس گلے کو گلہ نہیں کہتے
گر مزے کا گلا کرے کوئی
77
یہ ملی داد رنج فرقت کی
اور دل کا کہا کرے کوئی
88
تم سراپا ہو صورت تصویر
تم سے پھر بات کیا کرے کوئی
99
کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم
کیوں ہماری خطا کرے کوئی
1010
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
1111
اس جفا پر تمہیں تمنا ہے
کہ مری التجا کرے کوئی
1212
منہ لگاتے ہی داغؔ اترایا
لطف ہے پھر جفا کرے کوئی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

