آرزو ہے وفا کرے کوئی

Toggle stanza 1
آرزو ہے وفا کرے کوئی
1

آرزو ہے وفا کرے کوئی

جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی

2

گر مرض ہو دوا کرے کوئی

مرنے والے کا کیا کرے کوئی

3

کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا

اپنے حق میں دعا کرے کوئی

4

ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں

میرا مطلب ادا کرے کوئی

5

چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے

مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی

6

اس گلے کو گلہ نہیں کہتے

گر مزے کا گلا کرے کوئی

7

یہ ملی داد رنج فرقت کی

اور دل کا کہا کرے کوئی

8

تم سراپا ہو صورت تصویر

تم سے پھر بات کیا کرے کوئی

9

کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم

کیوں ہماری خطا کرے کوئی

10

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

11

اس جفا پر تمہیں تمنا ہے

کہ مری التجا کرے کوئی

12

منہ لگاتے ہی داغؔ اترایا

لطف ہے پھر جفا کرے کوئی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…