تلوار تری رواں بہت ہے
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1تلوار تری رواں بہت ہے
11
تلوار تری رواں بہت ہے
تھوڑا بھی تو امتحاں بہت ہے
22
کچھ آہ کے حوصلہ نکلتے
نیچا مگر آسماں بہت ہے
33
دامن پہ ترے لگی رہی خاک
اتنا ہی مرا نشاں بہت ہے
44
دل تنگ سہی پر اے تمنا
مر رہنے کو یہ مکاں بہت ہے
55
اک کوہ گراں ہے عشق لیکن
اس کو دل ناتواں بہت ہے
66
الفت میں نہیں ہے صبر نایاب
یہ چیز مگر گراں بہت ہے
77
باطن کی خبر خدا کو ہے داغؔ
ظاہر میں وہ مہرباں بہت ہے
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

