تلوار تری رواں بہت ہے

Toggle stanza 1
تلوار تری رواں بہت ہے
1

تلوار تری رواں بہت ہے

تھوڑا بھی تو امتحاں بہت ہے

2

کچھ آہ کے حوصلہ نکلتے

نیچا مگر آسماں بہت ہے

3

دامن پہ ترے لگی رہی خاک

اتنا ہی مرا نشاں بہت ہے

4

دل تنگ سہی پر اے تمنا

مر رہنے کو یہ مکاں بہت ہے

5

اک کوہ گراں ہے عشق لیکن

اس کو دل ناتواں بہت ہے

6

الفت میں نہیں ہے صبر نایاب

یہ چیز مگر گراں بہت ہے

7

باطن کی خبر خدا کو ہے داغؔ

ظاہر میں وہ مہرباں بہت ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…