اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر
Toggle stanza 1اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر
11
اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر
دل خوش نہ ہو تو کس کا تماشہ کہاں کی سیر
22
اب تک تو دیکھتے رہے جوبن بہار کا
آئندہ ہم کریں گے تمہاری خزاں کی سیر
33
دنیا کے دیکھنے کے لیے آنکھ چاہیے
جنت کی سیر سے ہے سوا اس مکاں کی سیر
44
کچھ جھومتے ہیں نشے میں کچھ ہیں گرے پڑے
کچھ اور ہی ہے محفل پیر مغاں کی سیر
55
کیوں دیکھنے لگے مری چشم پر آب کو
دریا پہ آپ کیجیے آب رواں کی سیر
66
کیوں آدمی کو عالم بالا کی ہو ہوس
بڑھ کر نہیں زمین سے کچھ آسماں کی سیر
77
دلی میں پھول والوں کی ہے ایک سیر داغؔ
بلدے میں ہم نے دیکھ لی سارے جہاں کی سیر
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

