ادھر خیال مرے دل میں زلف کا گزرا

Toggle stanza 1
ادھر خیال مرے دل میں زلف کا گزرا
1

ادھر خیال مرے دل میں زلف کا گزرا

ادھر وہ کھاتا ہوا دل میں پیچ و تاب آیا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…