خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو

Toggle stanza 1
خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
1

خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو

پر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد تو

2

دم بدم بھرتے ہیں ہم تیری ہوا خواہی کا دم

کر نہ بد خوؤں کے کہنے سے ہمیں برباد تو

3

کیا گنہ کیا جرم کیا تقصیر میری کیا خطا

بن گیا جو اس طرح حق میں مرے جلاد تو

4

قید سے تیری کہاں جائیں گے ہم بے بال و پر

کیوں قفس میں تنگ کرتا ہے ہمیں صیاد تو

5

دل کو دل سے راہ ہے تو جس طرح سے ہم تجھے

یاد کرتے ہیں کرے یوں ہی ہمیں بھی یاد تو

6

دل ترا فولاد ہو تو آپ ہو آئینہ وار

صاف یک باری سنے میری اگر روداد تو

7

شاد و خرم ایک عالم کو کیا اس نے ظفرؔ

پر سبب کیا ہے کہ ہے رنجیدہ و ناشاد تو

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…