نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

Toggle stanza 1
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
1

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا

2

کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیں

ہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا

3

غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میں

دئیے جا ساقی پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا

4

نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میں

بہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا

5

کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوں

طریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا

6

یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پر

اسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا

7

ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہے

کرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…