دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں
Toggle stanza 1دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں
11
دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں
رونق نہیں اس کی جس کا دل گرم نہیں
22
سختی میں بھی گداز طینت ہو جو صاف
پگھلی ہے برف گو کہ وہ نرم نہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

