امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
Toggle stanza 1امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
11
امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
جو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے
22
اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی
اجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے
33
غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی
چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے
44
یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن
وہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے
55
غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دے
اسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

