الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سے
شاعر: اکبرؔ الہ آبادی
Toggle stanza 1الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سے
11
الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سے
مانگی نہ مرے دل نے مدد طول امل سے
22
ان کی نگہ مست ہے لبریز معانی
ملتی ہوئی تاثیر میں حافظؔ کی غزل سے
33
ادراک نے آنکھیں شب اوہام میں کھولیں
واقف نہ ہوا روشنیٔ صبح ازل سے
44
درجہ متحیر کا ہے بے خود سے فروتر
ہے روح کو امید ترقی کی اجل سے
55
بحث کہن و نو میں سمجھتا نہیں اکبرؔ
جو ذرہ ہے موجود ہے وہ روز ازل سے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

