تراجم
مخدوم حسان لاهوری کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف مخدوم حسان لاهوری کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
رباعی شمارهٔ 51ز پیوند تن و جانم چه پرسی
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے —
رباعی شمارهٔ 52مرا فرمود پیر نکته دانی
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا —
رباعی شمارهٔ 53ز رازی معنی قرآن چه پرسی؟
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے؟ —
رباعی شمارهٔ 54من از بود و نبود خود خموشم
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں —
رباعی شمارهٔ 55ز من با شاعر رنگین بیان گوی
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو —
رباعی شمارهٔ 56ز خوب و زشت تو ناآشنایم
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں ) —
رباعی شمارهٔ 57تو ای شیخ حرم شاید ندانی
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا —
رباعی شمارهٔ 58چو تاب از خود بگیرد قطرهٔ آب
پانی کا قطرہ جب اندر سے چمک اٹھتا ہے —
رباعی شمارهٔ 59من ای دانشوران در پیچ و تابم
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں —
رباعی شمارهٔ 60میارا بزم بر ساحل که آنجا
ساحل پر بزم آراستہ نہ کر —
رباعی شمارهٔ 61سراپا معنی سر بسته ام من
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں —
رباعی شمارهٔ 62مگو از مدعای زندگانی
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول —
رباعی شمارهٔ 63اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —
رباعی شمارهٔ 64وفا ناآشنا بیگانه خو بود
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
رباعی شمارهٔ 65مپرس از عشق و از نیرنگی عشق
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ —
رباعی شمارهٔ 66مشو ای غنچهٔ نورسته دلگیر
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو —
رباعی شمارهٔ 67مرا روزی گل افسرده ئی گفت
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا —
رباعی شمارهٔ 68جهان ما که پایانی ندارد
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں —
رباعی شمارهٔ 69به مرغان چمن همداستانم
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں —
رباعی شمارهٔ 70نماید آنچه هست این وادی گل؟
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے —
رباعی شمارهٔ 71تو خورشیدی و من سیارهٔ تو
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں —
رباعی شمارهٔ 72خیال او درون دیده خوشتر
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے —
رباعی شمارهٔ 73دماغم کافر زنار دار است
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے —
رباعی شمارهٔ 74صنوبر بندهٔ آزادهٔ او
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے —
رباعی شمارهٔ 75ز انجم تا به انجم صد جهان بود
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —
رباعی شمارهٔ 76بپای خود مزن زنجیر تقدیر
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
رباعی شمارهٔ 77دل من در طلسم خود اسیر است
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے —
رباعی شمارهٔ 78نوا در ساز جان از زخمهٔ تو
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —
رباعی شمارهٔ 79نفس آشفته موجی از یم اوست
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے —
رباعی شمارهٔ 80ترا درد یکی در سینه پیچید
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا —
رباعی شمارهٔ 81کرا جوئی چرا در پیچ و تابی
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —
رباعی شمارهٔ 82تو ای کودک منش خود را ادب کن
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ —
رباعی شمارهٔ 83نه افغانیم و نی ترک و تتاریم
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —
رباعی شمارهٔ 84نهان در سینهٔ ما عالمی هست
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے —
رباعی شمارهٔ 85دل من ای دل من ایدل من
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل —
رباعی شمارهٔ 86چه گویم نکتهٔ زشت و نکو چیست
میں کیا کہوں کہ خیر و شر کیا ہے —
رباعی شمارهٔ 87کسی کو درد پنهانی ندارد
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —
رباعی شمارهٔ 88چه پرسی از کجایم چیستم من؟
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —
رباعی شمارهٔ 89به چندین جلوه در زیر نقابی
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —
رباعی شمارهٔ 90دل از منزل تهی کن پا بره دار
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
رباعی شمارهٔ 91بیا ای عشق ای رمز دل ما
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ —
رباعی شمارهٔ 92سخن درد و غم آرد ، درد و غم به
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —
رباعی شمارهٔ 93نه من بر مرکب ختلی سوارم
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں —
رباعی شمارهٔ 94کمال زندگی خواهی بیاموز
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن —
رباعی شمارهٔ 95تو میگوئی که آدم خاکزاد است
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے —
رباعی شمارهٔ 96دل بیباک را ضرغام رنگ است
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے —
رباعی شمارهٔ 97ندانم باده ام یا ساغرم من
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں —
رباعی شمارهٔ 98تو گوئی طایر ما زیر دام است
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے —
رباعی شمارهٔ 99چسان زاید تمنا در دل ما
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ —
رباعی شمارهٔ 100چو در جنت خرامیدم پس از مرگ
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا —

