رباعی شمارهٔ 31
Toggle stanza 1ای کرده فلک به خون من نامزدت
11
ای کرده فلک به خون من نامزدت
دیدار نکو داده و برده خردت
22
ز اقبال قبول تو و ز ادبار ردت
من خود رستم وای تو و خوی بدت
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

