رباعی شمارهٔ 31

Toggle stanza 1
ای کرده فلک به خون من نامزدت
1

ای کرده فلک به خون من نامزدت

دیدار نکو داده و برده خردت

2

ز اقبال قبول تو و ز ادبار ردت

من خود رستم وای تو و خوی بدت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…