رباعی شمارهٔ 338
Toggle stanza 1آنی که عدو چو برگ بیدست از تو
11
آنی که عدو چو برگ بیدست از تو
در حسن زمانه را نویدست از تو
22
مه را به ضیا هنوز امیدست از تو
این رسم سیهگری سپیدست از تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

