رباعی شمارهٔ 338

Toggle stanza 1
آنی که عدو چو برگ بیدست از تو
1

آنی که عدو چو برگ بیدست از تو

در حسن زمانه را نویدست از تو

2

مه را به ضیا هنوز امیدست از تو

این رسم سیه‌گری سپیدست از تو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…