شمارهٔ 11
Toggle stanza 1مال هست از درون دل چون مار
11
مال هست از درون دل چون مار
وز برون یار همچو روز و چو شب
22
او چنانست کاب کشتی را
از درون مرگ و از برون مرکب
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

