رباعی شمارهٔ 314

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: امن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
تا با خودی ارچه همنشینی با من
1

تا با خودی ارچه همنشینی با من

ای بس دوری که از تو باشد تا من

2

در من نرسی تا نشوی یکتا من

اندر ره عشق یا تو گنجی یا من

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…