رباعی شمارهٔ 372
Toggle stanza 1غم کی خورد آنکه شادمانیش تویی
11
غم کی خورد آنکه شادمانیش تویی
یا کی مرد آنکه زندگانیش تویی
22
در نسیهٔ آن جهان کجا بندد دل
آنرا که به نقد این جهانیش تویی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

