رباعی شمارهٔ 289
Toggle stanza 1چون می دانی همه ز خاک و آبیم
11
چون می دانی همه ز خاک و آبیم
امروز همه اسیر خورد و خوابیم
22
در تو نرسیم اگر بسی بشتابیم
سرمایه تویی سود ز خود کی یابیم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

