رباعی شمارهٔ 345
Toggle stanza 1ای زلف و رخ تو مایهٔ پیشهٔ تو
11
ای زلف و رخ تو مایهٔ پیشهٔ تو
وی مطلع مه کنارهٔ ریشهٔ تو
22
وی کشته هزار شیر در بیشهٔ تو
تو بیخبر و جهان در اندیشهٔ تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

