رباعی شمارهٔ 345

Toggle stanza 1
ای زلف و رخ تو مایهٔ پیشهٔ تو
1

ای زلف و رخ تو مایهٔ پیشهٔ تو

وی مطلع مه کنارهٔ ریشهٔ تو

2

وی کشته هزار شیر در بیشهٔ تو

تو بی‌خبر و جهان در اندیشهٔ تو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…