رباعی شمارهٔ 168
Toggle stanza 1دیده ز فراق تو زیان میبیند
11
دیده ز فراق تو زیان میبیند
بر چهره ز خون دل نشان میبیند
22
با این همه من ز دیده ناخشنودم
تا بی رخ تو چرا جهان میبیند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

