رباعی شمارهٔ 168

Toggle stanza 1
دیده ز فراق تو زیان می‌بیند
1

دیده ز فراق تو زیان می‌بیند

بر چهره ز خون دل نشان می‌بیند

2

با این همه من ز دیده ناخشنودم

تا بی رخ تو چرا جهان می‌بیند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…