رباعی شمارهٔ 103

Toggle stanza 1
هستی تو سزای این و صد چندین رنج
1

هستی تو سزای این و صد چندین رنج

تا با تو که گفت کین همه بر خود سنج

2

از جستن و خواستن برآسای و مباش

آرام گزین که خفته‌ای بر سر گنج

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…