رباعی شمارهٔ 103
Toggle stanza 1هستی تو سزای این و صد چندین رنج
11
هستی تو سزای این و صد چندین رنج
تا با تو که گفت کین همه بر خود سنج
22
از جستن و خواستن برآسای و مباش
آرام گزین که خفتهای بر سر گنج
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

