رباعی شمارهٔ 402

Toggle stanza 1
بیداد تو بر جان سنایی تا کی
1

بیداد تو بر جان سنایی تا کی

وین باختن عشق ریایی تا کی

2

از هر چه مرا بود ببردی همه پاک

آخر بنگویی این دغایی تا کی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…