رباعی شمارهٔ 402
Toggle stanza 1بیداد تو بر جان سنایی تا کی
11
بیداد تو بر جان سنایی تا کی
وین باختن عشق ریایی تا کی
22
از هر چه مرا بود ببردی همه پاک
آخر بنگویی این دغایی تا کی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

