رباعی شمارهٔ 137
Toggle stanza 1آن بت که دل مرا فرا چنگ آورد
11
آن بت که دل مرا فرا چنگ آورد
شد مست و سوی رفتن آهنگ آورد
22
گفتم: مستی، مرو، سر جنگ آورد
چون گل بدرید جامه و رنگ آورد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

