رباعی شمارهٔ 137

Toggle stanza 1
آن بت که دل مرا فرا چنگ آورد
1

آن بت که دل مرا فرا چنگ آورد

شد مست و سوی رفتن آهنگ آورد

2

گفتم: مستی، مرو، سر جنگ آورد

چون گل بدرید جامه و رنگ آورد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…