رباعی شمارهٔ 114

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: روزمباد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
چشمم ز فراق تو جهانسوز مباد
1

چشمم ز فراق تو جهانسوز مباد

بر من سپه هجر تو پیروز مباد

2

روزی اگر از تو باز خواهم ماندن

شب باد همه عمر من آن روز مباد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…