رباعی شمارهٔ 387
Toggle stanza 1در هر خم زلف مشکبیزی داری
11
در هر خم زلف مشکبیزی داری
در هر سر غمزه رستخیزی داری
22
رو گرچه ز عاشقان گریزی داری
روزی داری از آنکه ریزی داری
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

