رباعی شمارهٔ 205
Toggle stanza 1شب گشت ز هجران دل فروزم روز
11
شب گشت ز هجران دل فروزم روز
شب تیز شد از آه جهانسوزم روز
22
شد روشنی و تیرگی از روز و شبم
اکنون نه شبم شبست و نه روزم روز
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

