رباعی شمارهٔ 107
Toggle stanza 1گوشت سوی عاقلان غافلوش باد
11
گوشت سوی عاقلان غافلوش باد
چشمت سوی صوفیان دردی کش باد
22
بی روی تو آب دیدهها آتش باد
بی وصل تو روز نیک را شب خوش باد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

