Toggle stanza 1
دل بی غم نصیب از نقطه سودا نمی دارد
1

دل بی غم نصیب از نقطه سودا نمی دارد

که هرگز آب شیرین عنبر سارا نمی دارد

2

بدار ای ناصح بیکار دست از جستجوی ما

که از خود رفته در دنبال نقش پا نمی دارد

3

ندارد راه در دارالامان خامشی آفت

صدف اندیشه ای از تلخی دریا نمی دارد

4

به نور شمع نتوان برد راه از خویشتن بیرون

که این ظلمت چراغی جز دل بیتا نمی دارد

5

مکن از بیخودی منع دل سودایی صائب

که وحشت دیده دست از دامن صحرا نمی دارد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…