غزل شمارهٔ 4329

Toggle stanza 1
تا روشنی صدق به دل یار نگردد
1

تا روشنی صدق به دل یار نگردد

گفتار تو آیینه کردار نگردد

2

کوته بود از سوختگان دست تعدی

پروانه به شبگرد گرفتار نگردد

3

در ساغر چشم است می طفل مزاجی

افسانه حریف دل بیدار نگردد

4

رخساره گلرنگ تو هردم به هوایی است

چون چشم گرانخواب تو بیمار نگردد

5

تا صائب ما صفحه دیوان نگشاید

گل پردگی رخنه دیوار نگردد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…