غزل شمارهٔ 5191
Toggle stanza 1آزرده است گوشه نشین از وداع خلق
11
آزرده است گوشه نشین از وداع خلق
غافل که اتصال حق است انقطاع خلق
22
در اختلاط خلق ضررهاست، زینهار
بگذر ز خلق و صحبت بی انتفاع خلق
33
جانسوزتر ز مرگ طبیعی است فوت وقت
کاین انقطاع حق بود آن انقطاع خلق
44
بر اجتماع خلق مکن تکیه کز غرور
گوساله را خدای کند اجتماع خلق
55
صائب به یاد حق ز جهان صلح کرده ایم
فارغ نشسته ایم ز صلح و نزاع خلق
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

