Toggle stanza 1
آزرده است گوشه نشین از وداع خلق
1

آزرده است گوشه نشین از وداع خلق

غافل که اتصال حق است انقطاع خلق

2

در اختلاط خلق ضررهاست، زینهار

بگذر ز خلق و صحبت بی انتفاع خلق

3

جانسوزتر ز مرگ طبیعی است فوت وقت

کاین انقطاع حق بود آن انقطاع خلق

4

بر اجتماع خلق مکن تکیه کز غرور

گوساله را خدای کند اجتماع خلق

5

صائب به یاد حق ز جهان صلح کرده ایم

فارغ نشسته ایم ز صلح و نزاع خلق

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…