غزل شمارهٔ 6780

شاعر: صائب

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: ینی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
خودآرا را برابر می کند با خاک خودبینی
1

خودآرا را برابر می کند با خاک خودبینی

حنای شهپر پرواز طاوس است رنگینی

2

قناعت با سفال خویش کن کز ظاهرآرایی

شود آب گوارا ناگوار از کاسه چینی

3

سپهر سفله بر شیرین زبانان تنگ می گیرد

ز بند نی نمی آید برون شکر ز شیرینی

4

متاب از ساده لوحی رو اگر آسودگی خواهی

که گردد دردهای نسیه نقد از عاقبت بینی

5

ز بار دل یکی صد شد پریشان گردی زلفش

که می سازد فلاخن را سبک پرواز سنگینی

6

رخش با خط برآمد خوش، که را می گشت در خاطر

که طوطی محرم آیینه گردد با سخن چینی؟

7

برون آ از خودی تا دیده ات حق بین شود صائب

که خودبینی نگردد جمع هرگز با خدابینی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…