غزل شمارهٔ 5039

Toggle stanza 1
گوهر فروز دیده بیدار خویش باش
1

گوهر فروز دیده بیدار خویش باش

برق فنای خرمن پندار خویش باش

2

پا از گلیم مرتبه خود مکن دراز

چون نقطه پاشکسته پرگار خویش باش

3

ارباب کام،تشنه لغزیدن تواند

ای سرو خوش خرام خبردار خویش باش

4

گلزار حسن شبنم خلق است تازه روی

از حسن خلق، شبنم گلزار خویش باش

5

درمانده اند خلق به درمان درد خود

رحمی به حال خودکن و غمخوار خویش باش

6

پیچیده ای به طول امل از سر غرور

در فکر باز کردن زنار خویش باش

7

یک بوسه نذر صائب بیمار کرده ای

تنگ است وقت،بر سر گفتار خویش باش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…