غزل شمارهٔ 2956
شاعر: صائب
Toggle stanza 1عرق رخسار آن خورشید طلعت برنمیدارد
11
عرق رخسار آن خورشید طلعت برنمیدارد
که چشم از پشت پا نرگس ز خجلت برنمیدارد
22
نگردد چون سر انگشت اشارت رزق دندانها؟
ولیکن منت دست حمایت برنمیدارد
33
مگر دیده است چشم خوش نگاه آن سمنبر را؟
زمین خانهبردوشان عمارت برنمیدارد
44
نپیچد سر ز زخم گاز شمع ما سیهروزان
گل این باغ شبنم از لطافت برنمیدارد
55
عبث معمار آب روی خود بر خاک میریزد
که از لطف آن هلال ابرو اشارت برنمیدارد
66
بود شور قیامت نقد بر صاحبدلی صائب
که چشم خود از آن کان ملاحت برنمیدارد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

