غزل شمارهٔ 2956

Toggle stanza 1
عرق رخسار آن خورشید طلعت برنمی‌دارد
1

عرق رخسار آن خورشید طلعت برنمی‌دارد

که چشم از پشت پا نرگس ز خجلت برنمی‌دارد

2

نگردد چون سر انگشت اشارت رزق دندان‌ها؟

ولیکن منت دست حمایت برنمی‌دارد

3

مگر دیده است چشم خوش نگاه آن سمن‌بر را؟

زمین خانه‌بردوشان عمارت برنمی‌دارد

4

نپیچد سر ز زخم گاز شمع ما سیه‌روزان

گل این باغ شبنم از لطافت برنمی‌دارد

5

عبث معمار آب روی خود بر خاک می‌ریزد

که از لطف آن هلال ابرو اشارت برنمی‌دارد

6

بود شور قیامت نقد بر صاحبدلی صائب

که چشم خود از آن کان ملاحت برنمی‌دارد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…