غزل شمارهٔ 6879

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ازکنی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
بر این مباش که خون در دل نیاز کنی
1

بر این مباش که خون در دل نیاز کنی

به قدر مرتبه حسن خویش ناز کنی

2

خوش است غارت دل ها، ولی نه چندانی

که عمر جلوه خود صرف ترکتاز کنی

3

نهایتش گرهی چند وا کند از زلف

ز دست کوته ما چند احتراز کنی؟

4

نظر به جانب من کن که چند روز دگر

غبار خط نگذارد که چشم باز کنی

5

وفا جبلی خوبان نمی شود صائب

چه لازم است سخن را عبث دراز کنی؟

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…