Toggle stanza 1
گفتار تو شهدی است که جانها مگس اوست
1

گفتار تو شهدی است که جانها مگس اوست

رفتار تو سیلی است که دل خار و خس اوست

2

هر ناله که از دل ز سر صدق برآید

صبحی است که تسخیر جهان در نفس اوست

3

نخلی که برآرنده خود را نشناسد

سر پیش فکندن ثمر پیشرس اوست

4

هر چند که از محمل لیلی اثری نیست

صد بادیه پر شور ز بانگ جرس اوست

5

با هر که کسی نیست به جز بیکسی او را

صائب به ادب باش که بی گفت، کس اوست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…