Toggle stanza 1
دل شکسته من درد را دوا گیرد
1

دل شکسته من درد را دوا گیرد

نمک به دیده من رنگ توتیا گیرد

2

چنین که من ز لباس تعلق آزادم

عجب که پهلوی من نقش بوریا گیرد

3

به خصم کینه نورزد دل ستمکش من

چراغ کشته من جانب صبا گیرد

4

گر از کمین بناگوش خط برون ناید

دگر که داد مرا از تو بیوفا گیرد؟

5

چنان رمیده ز آسودگی دلم صائب

که همچو زلف پریشانی از هوا گیرد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…