غزل شمارهٔ 3792
Toggle stanza 1دل شکسته من درد را دوا گیرد
11
دل شکسته من درد را دوا گیرد
نمک به دیده من رنگ توتیا گیرد
22
چنین که من ز لباس تعلق آزادم
عجب که پهلوی من نقش بوریا گیرد
33
به خصم کینه نورزد دل ستمکش من
چراغ کشته من جانب صبا گیرد
44
گر از کمین بناگوش خط برون ناید
دگر که داد مرا از تو بیوفا گیرد؟
55
چنان رمیده ز آسودگی دلم صائب
که همچو زلف پریشانی از هوا گیرد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

