شمارهٔ 67
Toggle stanza 1از دست تهی کرم نیاید
11
از دست تهی کرم نیاید
هر چند دلش جواد باشد
22
مسکین چه کند سوار چالاک
چون اسب نه بر مراد باشد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

