Toggle stanza 1
از دست تهی کرم نیاید
1

از دست تهی کرم نیاید

هر چند دلش جواد باشد

2

مسکین چه کند سوار چالاک

چون اسب نه بر مراد باشد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…