شمارهٔ 79
Toggle stanza 1بسا بساط خداوند ملک دولت را
11
بسا بساط خداوند ملک دولت را
که آب دیدهٔ مظلوم در نورداند
22
چو قطره قطرهٔ باران خرد بر کهسار
که سنگهای درشت از کمر بگرداند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

