Toggle stanza 1
بسا بساط خداوند ملک دولت را
1

بسا بساط خداوند ملک دولت را

که آب دیدهٔ مظلوم در نورداند

2

چو قطره قطرهٔ باران خرد بر کهسار

که سنگ‌های درشت از کمر بگرداند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…