شمارهٔ 224
Toggle stanza 1چو بندگان کمر بسته شرط خدمت را
11
چو بندگان کمر بسته شرط خدمت را
روا بود که به کمترگناه بند کنی
22
تو نیز بندهای آخر ستیز نتوان برد
خلاف امر خداوندگار چند کنی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

