شمارهٔ 212
Toggle stanza 1دوش در سِلْکِ صحبتی بودم
11
دوش در سِلْکِ صحبتی بودم
گوش و چشمم به مطرب و ساقی
22
پایمال معاشرت کردم
هر چه سالوس بود و زَرّاقی
33
گفتم ای دل قرار گیر اکنون
که همین بود حد مشتاقی
44
دیگر از بامداد میبینم
طلب نفس همچنان باقی
صداکار منتخب کریں
0:000:00
ماخذ
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

