شمارهٔ 212

Toggle stanza 1
دوش در سِلْکِ صحبتی بودم
1
دوش در سِلْکِ صحبتی بودم
گوش و چشمم به مطرب و ساقی
2
پایمال معاشرت کردم
هر چه سالوس بود و زَرّاقی
3
گفتم ای دل قرار گیر اکنون
که همین بود حد مشتاقی
4
دیگر از بامداد می‌بینم
طلب نفس همچنان باقی

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…