شمارهٔ 115
شاعر: سعدی
Toggle stanza 1گر خردمند از اوباش جفایی بیند
11
گر خردمند از اوباش جفایی بیند
تا دل خویش نیازارد و درهم نشود
22
سنگ بیقیمت اگر کاسهٔ زرین بشکست
قیمت سنگ نیفزاید و زر کم نشود
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

