رباعی شمارهٔ 66

Toggle stanza 1
هر چند که عیبم از قفا می‌گویند
1
هر چند که عیبم از قفا می‌گویند
دشنام و دروغ و ناسزا می‌گویند
2
نتوان به حدیث دشمن از دوست برید
دانی چه؟ رها کنیم تا می‌گویند

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…