رباعی شمارهٔ 68
شاعر: سعدی
Toggle stanza 1من دوش قضا یار و قدر پشتم بود
11
من دوش قضا یار و قدر پشتم بود
نارنج زنخدان تو در مشتم بود
22
دیدم که همی گزم لب شیرینش
بیدار چو گشتم سر انگشتم بود
صداکار منتخب کریں
0:000:00
ماخذ
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

