رباعی شمارهٔ 559
Toggle stanza 1ای عشق که جانها اثرِ جان تُوَند
11
ای عشق که جانها اثرِ جان تُوَند
ای عشق که نمکها ز نمکدان تُوَند
22
ای عشق که زرها همه از کان تُوَند
پوشیده کسی و جمله عریان تُوَند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

