رباعی شمارهٔ 559

Toggle stanza 1
ای عشق که جانها اثرِ جان تُوَند
1

ای عشق که جانها اثرِ جان تُوَند

ای عشق که نمکها ز نمکدان تُوَند

2

ای عشق که زرها همه از کان تُوَند

پوشیده کسی و جمله عریان تُوَند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…