رباعی شمارهٔ 1814
Toggle stanza 1تا درد نیابی تو به درمان نرسی
11
تا درد نیابی تو به درمان نرسی
تا جان ندهی به وصل جانان نرسی
22
تا همچو خلیل اندر آتش نروی
چون خضر به سرچشمهٔ حیوان نرسی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

