رباعی شمارهٔ 1814

Toggle stanza 1
تا درد نیابی تو به درمان نرسی
1
تا درد نیابی تو به درمان نرسی
تا جان ندهی به وصل جانان نرسی
2
تا همچو خلیل اندر آتش نروی
چون خضر به سرچشمهٔ حیوان نرسی

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…