رباعی شمارهٔ 1812
Toggle stanza 1تا چند ز جان مستمند اندیشی
11
تا چند ز جان مستمند اندیشی
تا کی ز جهان پرگزند اندیشی
22
آنچه از تو ستد همین کالبد است
یک مزبله گو مباش چند اندیشی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

